حالیہ جنگ: مفتاح اسماعیل کے مطابق امریکہ و اسرائیل کا بھاری نقصان

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ موجودہ خطے کی کشیدگی سے سب سے زیادہ معاشی نقصان امریکہ اور اسرائیل کو ہوا ہے۔
کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی میں منعقدہ ایک خصوصی سیمینار کے دوران سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حالیہ جنگی کشیدگی کے معاشی اثرات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پورے تنازع میں سراسر نقصان امریکہ اور اسرائیل کا ہوا ہے۔
اس سیمینار کا موضوع ‘ایران امریکا جنگ اکیڈمیا کی نظر میں’ تھا، جس میں ماہرین تعلیم اور تزویراتی امور کے محققین نے شرکت کی۔ مفتاح اسماعیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران پر عائد دہائیوں پرانی پابندیوں کے باوجود خطے کی صورتحال نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے، تاہم سب سے بڑا مالی بوجھ انہی ممالک نے اٹھایا ہے جو اس محاذ آرائی کا براہِ راست حصہ ہیں۔
یہ تجزیہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے دنیا بھر کے ممالک کی معاشی حکمت عملی تبدیل ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل قریب میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے یا کوئی نیا معاہدہ طے پاتا ہے، تو ایرانی معیشت انتہائی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے بھی توانائی کے شعبے میں تجارتی مواقع پیدا ہوں گے، جس سے خطے کی مجموعی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
سیمینار کے دوران ماہرین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس کشمکش کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں بلکہ یہ خطے کی جغرافیائی سیاست کو بھی نئے سرے سے تشکیل دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر توصیف احمد کے مطابق، یہ تنازع محض سیاسی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑی رسہ کشی ہے جس کے اثرات تعلیمی اور سائنسی اداروں تک پہنچ رہے ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے یہ بھی واضح کیا کہ خطے کے دیگر ممالک بشمول سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی کسی نہ کسی سطح پر اس صورتحال کے اثرات محسوس کیے ہیں، مگر پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں فی کس نقصان کی شرح نسبتاً کم رہی ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران کے مابین اقتصادی اور علمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس طرح کے تعلیمی فورمز سے پالیسی سازوں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اپنے مفادات کا تحفظ کیسے کیا جائے۔
خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں اس طرح کے مکالمے پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک راہنما ثابت ہوتے ہیں تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔