Tuvalu News

امریکی امیگریشن گرفتاری میں 12٪ کمی: منیپولس کے واقعات کے بعد تبدیلی

امریکی امیگریشن اور کسٹمز انٹرنسنسمینٹ (ICE) کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں گرفتاریوں میں تقریباً 12 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ کمی منیپولس میں دو شہریوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی، جہاں حکومتی سطح پر اہم تبدیلیاں کی گئیں۔

امریکہ میں امیگریشن ریکاڈ کے دوران ایک غیر متوقع جھٹکا محسوس ہوا ہے۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز انٹرنسنسمینٹ (ICE) کے تحت کی جانے والی گرفتاریوں میں پچھلے پانچ ہفتوں کے دوران اوسطاً 12٪ کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ کمی منیپولس میں دو شہریوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی، جس نے قومی سطح پر پالیسی کے بارے میں سوالات اٹھا دیے۔

گرفتاریوں میں کمی کا اعداد و شمار

پچھلے ہفتوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 46٪ گرفتاری شدہ افراد کے پاس کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا، جو فروری کے بعد 41٪ تک کم ہوا۔ اس کے باوجود، اس فیصد کا حجم ابھی بھی کافی زیادہ سمجھا جاتا ہے اور اس پر تنقید جاری ہے۔

مستقبل کے اثرات

یہ کمی عوامی اور سیاسی دباؤ کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔ منیپولس میں دو شہریوں کی ہلاکت کے بعد، شہری حقوق کے کارکنوں نے احتجاج کیا اور حکومتی اداروں پر سخت سوالات اٹھائے۔ اس پس منظر میں، وفاقی حکومت نے شفافیت بڑھانے اور غیر قانونی حکمت عملیوں پر روک لگانے کے وعدے کئے ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ کی امیگریشن پالیسی پہلے ہی متعدد تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ ٹرمپ کی دور میں سخت ریکاڈ کی پالیسی اپنائی گئی، جبکہ بائیڈن کے دور میں انسانی حقوق پر زیادہ توجہ دی گئی۔ اب موجودہ کمی اس بات کا اشارہ دے سکتی ہے کہ مستقبل میں ایک متوازن نقطہ نظر اپنایا جا سکتا ہے جہاں سکیورٹی اور انسانی حقوق دونوں کو مدنظر رکھا جائے۔

ایک عام امریکی خاندان کے لیے یہ تبدیلی اہم ہے۔ متعدد خاندانوں نے بتایا کہ ICE کی کارروائیوں نے ان کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے؛ اکثر افراد کو اچانک جملوں کے ساتھ ملک چھوڑنا پڑا۔ اس کمی کے باعث، وہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ کے سالوں میں ان کے ساتھ کم سے کم مداخلت ہوگی۔

حکومت کی نئی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ، ریاستی حکومتیں بھی اپنے قوانین کو دوبارہ دیکھ رہی ہیں۔ بعض ریاستیں سخت امیگریشن قوانین کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں، جب کہ کچھ ریاستیں انسانی حقوق کی فراہمی پر زور دے رہی ہیں۔ اس متقابل سمت نے ملک کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

آنے والے مہینوں میں، مشاہدہ کیا جائے گا کہ آیا یہ کمی مستقل رہے گی یا صرف ایک وقتی جھٹکا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے تو ممکن ہے کہ امریکہ کی امیگریشن پالیسی میں ایک نئے دور کا آغاز ہو—ایک دور جہاں سکیورٹی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی بھی مرکز میں ہو۔

یہ تمام پیش رفت Misryoum کی رپورٹنگ کے ذریعے سامنے آئی ہے اور اس کی مزید تفصیل آئندہ رپورٹس میں پیش کی جائے گی۔