نیویارک میں کونسل ممبر چی اوسے کی اینٹی ایویکشن احتجاج کے دوران گرفتاری اور رہائی

بروکلن کے بیڈفورڈ سٹویوسنٹ میں اینٹی ایویکشن احتجاج کے دوران نیویارک سٹی کونسل ممبر چی اوسے کو گرفتار کر کے بعد میں رہا کر دیا گیا۔ الزام اور تنازع ڈِید تھیفٹ پالیسیوں پر بھی پھیلا۔
نیویارک میں بروکلن کے بیڈفورڈ سٹویوسنٹ میں بدھ کے روز پیش آنے والے ایک اینٹی ایویکشن احتجاج نے سیاسی حلقوں اور رہائشی حقوق کی بحث کو پھر سے گرما دیا۔
نیویارک سٹی کونسل ممبر چی اوُسے کو شہر کی پولیس اور سٹی مارشلز کی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا، اور کچھ دیر بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ وہ میئر زوہران ممدانی کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، اور اسی پس منظر میں ان کی گرفتاری کو سیاسی اور عوامی طور پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
واقعے کی تفصیل کے مطابق احتجاج کار ایک ایسے گھر کی ایویکشن روکنے کی کوشش کر رہے تھے جہاں پولیس اور سٹی مارشلز داخلے کی اجازت لینے کے لیے موجود تھے۔ جب احتجاج کاروں نے داخلے سے انکار کیا تو پولیس نے متعدد افراد کے ساتھ چی اوسے کو بھی گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ایویکشن کارروائی کے دوران احتجاج کاروں کو بار بار زبانی وارننگ دی گئی، مگر وہ باوجود اس کے نہ رکے۔
چی اوسے پر گورنمنٹل ایڈمنسٹریشن میں رکاوٹ ڈالنے اور دو شماروں پر ڈس آرڈرلی کنڈکٹ کا الزام عائد کیا گیا۔ انہیں ڈیسک اپیرنس ٹکٹ (court process کے لیے ابتدائی کاغذی کارروائی) جاری کیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش میں رہی جس میں پولیس افسران کو چی اوسے کو زمین پر پٹکتے ہوئے دکھایا گیا۔ ان کے دفتر نے اسے “پر تشدد پولیس ایکشن” قرار دیا، جبکہ پولیس کارروائی کو قانونی اور اصولی کارروائی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک گرفتاری تک محدود نہیں رہا؛ اس نے طاقت کے استعمال، احتجاج کی حد، اور رہائشیوں کے تحفظ کے سوالات بھی کھڑے کیے۔ میئر زوہران ممدانی نے گرفتاری کو “انتہائی تشویش ناک” کہا اور کہا کہ وہ اس معاملے کی مزید تفتیش کروائیں گے۔ سٹی کونسل اسپیکر جولی مینین نے بھی تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ چی اوسے کے دفتر سے رابطے میں ہیں۔ مقامی سطح پر یہ پیغام واضح تھا کہ شہر کے اندر قانون اور انسانی حقوق کے توازن پر نگاہ رکھی جائے گی۔
اس تنازع کے بیچ ایک بڑا نقطہ “ڈیڈ تھیفٹ” کا مسئلہ بھی ہے۔ چی اوسے کے دفتر کے مطابق وہ ایک سیاہ فام گھر مالک کی حمایت کر رہے تھے جن کا گھر مبینہ طور پر “ڈیڈ تھیفٹ” کے ذریعے چھینا جا رہا تھا۔ ڈیڈ تھیفٹ سے مراد ایسا فراڈ بتایا جاتا ہے جس میں گھر کے مالکانہ حقوق مالکان کی اجازت کے بغیر منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ خاص طور پر سیاہ فام گھر مالکان کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتا ہے، اور اسی لیے احتجاج میں جذبات بلند ہونا فطری محسوس ہوتے ہیں۔
مگر نیویارک اسٹیٹ اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے بروکلن پراپرٹی کے تنازع کو دیکھتے ہوئے یہ موقف سامنے آیا کہ یہ ڈیڈ تھیفٹ کا کیس نہیں ہے۔ اسی اختلاف نے پوری کہانی کو مزید پیچیدہ بنا دیا: ایک طرف احتجاج کار اور منتخب نمائندہ ہیں جو اسے ممکنہ فراڈ اور ناانصافی سمجھ رہے ہیں، اور دوسری طرف ریاستی سطح پر جائزہ لینے والوں کا دعویٰ ہے کہ معاملہ مختلف ہے۔ اس طرح کی صورت میں رہائشیوں کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انہیں کس بنیاد پر تحفظ ملنا چاہیے، اور قانونی عمل کتنی تیزی سے چلنا چاہیے۔
کونسل ممبران الیکزا ایویلیس، ٹفنی کیبان اور شاہانہ حنیف نے مشترکہ بیان میں چی اوسے کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کی اور شہر میں گھر مالکان کے سامنے درپیش “پرڈیٹری ڈیڈ تھیفٹ پالیسیوں” کی مذمت بھی کی۔ ان کے مطابق وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے کیس لڑتے ہوئے بے گھر نہ کیا جائے۔ یہ جملہ اس بحث کے مرکز میں ہے کہ عدالتی یا انتظامی مرحلے میں بھی لوگوں کو گھروں سے محروم ہونے سے کیسے بچایا جائے—خاص طور پر جب دعویٰ کیا جائے کہ ان کے حقوق پر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔
ایک طویل نظر سے دیکھا جائے تو یہ واقعہ نیویارک میں ڈیڈ تھیفٹ اور بلیک گھر مالکان کے تحفظ سے جڑی بحث کو دوبارہ سامنے لاتا ہے۔ شہر میں رہائش کی قیمتیں اور قانونی کارروائیوں کی پیچیدگیاں کئی خاندانوں کے لیے پہلے ہی دباؤ کا باعث بنتی ہیں، اور ایسے میں احتجاج اور گرفتاری کی خبریں فوری طور پر اعتماد کے سوال کھڑے کر دیتی ہیں: کیا نظام واقعی کمزور گھر مالکان کی حفاظت کے لیے کافی ہے؟ اور اگر دعوے درست ہیں تو کارروائی کے دوران احتیاط کہاں برتی جاتی ہے؟
دوسری طرف چی اوسے کی رہائی کے بعد ان کے موقف سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ وہ اپنے حلقے کے رہائشیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ آنے والے دنوں میں ممکنہ تفتیش، قانونی کارروائی اور عوامی ردعمل اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اس واقعے کو صرف ایک دن کی ہنگامہ آرائی سمجھا جائے گا یا رہائش و حقوق کے نظام میں اصلاح کی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے گا۔