pakistan news

ایران سے مذاکرات خفیہ مرحلے میں، ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو خفیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملات ان کے کنٹرول میں ہیں اور اہم پیش رفت پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پورے عمل کی اصل صورتحال سے صرف وہ خود اور چند مخصوص افراد ہی آگاہ ہیں۔ عوامی سطح پر جو تاثر قائم ہو رہا ہے، وہ حقیقت سے کوسوں دور ہے اور مذاکرات کے اصل اہداف تاحال خفیہ رکھے گئے ہیں۔

مسرویم کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس میں پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات ہونے کے باعث فی الحال ان تفصیلات کو منظرِ عام پر لانا ممکن نہیں ہے۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ عالمی سطح پر جاری سفارتی کشمکش میں سٹریٹجک خاموشی کتنی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب بڑے عالمی طاقتور ممالک کے درمیان بات چیت ہو رہی ہو، تو ہر قدم پر احتیاط برتی جاتی ہے تاکہ مذاکرات کسی بھی غیر متوقع رکاوٹ سے محفوظ رہ سکیں۔

ایک انٹرویو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جنگ بندی کے ممکنہ ٹوٹ جانے کے حوالے سے کسی قسم کے دباؤ کا شکار ہیں، تو انہوں نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ معاملات مکمل طور پر ان کی نگرانی میں ہیں اور پیش رفت کا ایک خاص روڈ میپ موجود ہے۔

ٹرمپ کے مطابق، دنیا بھر میں جو یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں، وہ حقائق کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی پیچیدگیوں کو سمجھنا ضروری ہے اور جب وقت مناسب ہوگا تو تمام تفصیلات قوم اور دنیا کے سامنے لائی جائیں گی۔

مذاکرات کا یہ خفیہ پہلو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی مبصرین کی نگاہیں اب اس بات پر ہیں کہ کب یہ ‘خفیہ مرحلہ’ مکمل ہوتا ہے اور کیا اس کے نتائج خطے میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

اس عمل کی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک ان پردے کے پیچھے ہونے والے فیصلوں پر ہے جنہیں فی الحال صرف چند افراد ہی جانتے ہیں۔ وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ خفیہ مذاکرات واقعی ایک دیرپا حل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

سفارت کاری میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اہم پیش رفت کو عوامی دباؤ سے دور رکھا جاتا ہے تاکہ عمل کو ڈی ریل ہونے سے بچایا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ فی الحال ان معاملات پر کسی بھی قسم کی تفصیلات فراہم کرنے سے گریزاں ہے۔

حتمی طور پر، یہ پیش رفت آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور مسرویم ان تمام پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سفارتی تنہائی اور خفیہ مذاکرات کا یہ ملاپ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو غیر یقینی صورتحال میں استحکام لانے کے لیے اپنائی جا رہی ہے۔ یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ اس کے اثرات کب تک نمایاں ہوتے ہیں۔