حالیہ جنگ میں امریکہ و اسرائیل کو نقصان ہوا، مفتاح اسماعیل

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کراچی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی میں امریکہ اور اسرائیل کا معاشی نقصان سب سے زیادہ رہا ہے۔
کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی میں منعقدہ ایک خصوصی سیمینار کے دوران سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حالیہ علاقائی جنگ کے معاشی اثرات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان امریکہ و اسرائیل کو ہوا ہے۔
اس سیمینار کا موضوع ‘ایران امریکا جنگ اکیڈمیا کی نظر میں’ تھا، جس میں ملکی ماہرینِ تعلیم اور محققین نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے تزویراتی نتائج پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔
مفتاح اسماعیل نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایران پر برسوں سے جاری معاشی پابندیوں کے باوجود، اگر مستقبل میں کوئی تصفیہ ہوتا ہے تو ایرانی معیشت کے تیزی سے ابھرنے کے امکانات موجود ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پابندیاں ہٹنے سے نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے لیے بھی توانائی اور تجارت کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
اس تجزیے کی اہمیت یہ ہے کہ یہ خطے میں جاری کشیدگی کو صرف فوجی زاویے سے دیکھنے کے بجائے معاشی مفادات اور طویل مدتی اثرات کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
مزید برآں، سابق وزیر خزانہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اگرچہ پاکستان کی معیشت بھی اس کشمکش سے محفوظ نہیں، تاہم فی کس سطح پر اسے دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی استحکام ہی خطے میں خوشحالی کی ضمانت ہے۔
سیمینار کے شرکاء نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عالمی جغرافیائی سیاست کی اس کشمکش نے تعلیمی اور سائنسی اداروں کو بھی براہ راست متاثر کیا ہے، جس کے اثرات اب اکیڈمیا کے حلقوں میں بھی زیر بحث لائے جا رہے ہیں۔
مقررین میں شامل ڈاکٹر توصیف احمد، ڈاکٹر فاخر رضا اور ڈاکٹر اصغر دشتی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی سائنسی ترقی اور عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اس توازن کو ایک پیچیدہ عمل قرار دیا۔
آخر میں، تقریب کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ تعلیمی اور اقتصادی تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے درپیش مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔
یہ بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے صرف عسکری حکمت عملی کافی نہیں، بلکہ معاشی اور تعلیمی استحکام ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔