pakistan news

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات: برطانیہ میں ادویات کی قلت

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث برطانوی فارمیسیوں میں ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات اب برطانیہ کی فارمیسیوں تک پہنچ چکے ہیں جہاں اہم ادویات کی شدید قلت نے مریضوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

برطانیہ بھر میں بلڈ پریشر، مرگی اور کینسر جیسے پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دواؤں کی دستیابی میں بڑی رکاوٹیں دیکھی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال ان مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جو باقاعدگی سے ان دواؤں کے استعمال کے پابند ہیں۔

اس بحران کی اہمیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ ادویات کی عدم فراہمی براہِ راست مریضوں کی صحت پر گہرے منفی اثرات ڈال رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس نے براہِ راست برطانوی مارکیٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ فضائی اور سمندری راستوں پر مال برداری کے اخراجات میں ہوشربا اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ درآمدی لاگت بڑھنے سے ادویات کی قیمتیں بھی عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مقرر کردہ نرخوں کا نظام ہے۔ فارمیسی مالکان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور این ایچ ایس کے طے شدہ ریٹس کے درمیان ایک بڑا خلیج پیدا ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے دوا فروشوں کے لیے مارکیٹ سے اسٹاک خرید کر عوام تک پہنچانا ممکن نہیں رہا۔

اگر حکومتی سطح پر اس سپلائی چین کے بحران کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو آنے والے ہفتوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صحت کا یہ نظام بری طرح درہم برہم ہو جائے گا اور مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جائیں گی۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کس طرح سرحدوں سے دور عام شہریوں کی روزمرہ کی زندگی اور بنیادی صحت کی ضروریات کو براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔