Pakistan News

HIV کیسز میں خطرناک اضافہ: پِیما کی شدید تشویش

پِیما نے اسلام آباد، کراچی اور دیگر علاقوں میں HIV کیسز کے خطرناک بڑھاؤ پر فوری حفاظتی اقدامات اور عوامی آگاہی کی طلب کی ہے۔

پِیما کے مطابق، ملک میں HIV کیسز اضافہ ایک خطرناک پیش رفت ہے جس پر فوری توجہ ضروری ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، اسلام آباد، کراچی، لاڑکانہ اور دیگر شہر میں صرف چند ماہ میں 2,449 سے زیادہ بچوں میں HIV کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف تعداد میں اضافہ بلکہ جغرافیائی طور پر پھیلاؤ کی نئی ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس بڑھاؤ کی بنیادی وجوہات غیر محفوظ طبی پریکٹسز، انجکشن کے دوبارہ استعمال اور بغیر اسکریننگ کے خون کی منتقلی ہیں۔ جب ڈاکٹر یا نرس حفاظتی اقدامات سے غافل ہو جاتے ہیں تو بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عوامی آگاہی کی کمی بھی مریضوں کو جلد تشخیص سے روک دیتی ہے۔ اس بحران کے اثرات صرف صحت کے شعبے تک محدود نہیں؛ یہ سماجی اور معاشی بوجھ بھی بڑھاتے ہیں۔

Misryoum کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 3,50,000 افراد HIV کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، مگر ان میں سے صرف 74,000 کو اپنی حالت کا علم ہے۔ عالمی سطح پر HIV کا رجحان مستحکم رہا ہے، لیکن پاکستان میں حالیہ اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مقامی عوامل کی وجہ سے بیماری کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ تاریخی طور پر ملک میں HIV کے کیسز کم رہے تھے، لیکن پچھلے دو سالوں میں غیر محفوظ طبی عمل اور ناقص ضابطہ کاری نے اس کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

ایک کراچی کی خاندان کی کہانی اس بحران کی ذاتی سطح پر تصویر کھینچتی ہے۔ ایک ماں نے اپنے بیٹے کی تشخیص کے بعد رات کے وقت ہسپتال کے ہال میں گونجتی ہوئی ہنکار کی آواز سنی—”کیا ہم اس سے بچ سکتے ہیں؟”—یہ لمحہ اس خاندان کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ اس واقعاتی منظر نے عوام میں خوف اور اضطراب کو بڑھا دیا ہے، جس سے فوری معلوماتی مہم کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔

پِیما کی جانب سے پیش کردہ تجزیاتی نقطہ یہ بھی ہے کہ اگر فوری طور پر غیر محفوظ طبی پریکٹسز پر پابندی نہیں لگائی گئی تو مستقبل میں HIV کی تعداد دوگنی ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف صحت کا نظام دباؤ میں آ جائے گا، بلکہ سماجی stigmatization بھی بڑھ سکتی ہے، جو مریضوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالے گی۔ اس لیے حکام سے توقع ہے کہ وہ بیک وقت روک تھام اور علاج دونوں پر توجہ مرکوز کریں۔

حکمت عملی اور سفارشات

سرکاری ردعمل اور آئندہ اقدامات

پِیما کی یہ اپیل نہ صرف ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ یہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ ہر شہری کو اپنی صحت اور کمیونٹی کی حفاظت کے لیے آگاہ رہنا ضروری ہے۔