امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات

اسلام آباد کی مصروف فضاؤں میں آج کچھ غیر معمولی سرگرمی دیکھنے کو ملی، جب امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کا رخ کیا۔ کمرے میں موجود بھاری پردوں کے پیچھے سے آتی ہلکی سی ہوا اور کافی کی مہک کے درمیان، سیاست کے پتے شفل کیے جا رہے تھے۔ یا شاید یہ صرف معمول کی بات چیت تھی؟ خیر، ملاقات کا ایجنڈا کافی سنجیدہ نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔
ملاقات میں کیا کچھ ہوا؟ مسریوم کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی۔ خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے جو باتیں سامنے آئی ہیں، وہ کافی دلچسپ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہا ہے یا شاید بس معاملات کو کسی اور زاویے سے دیکھ رہا ہے— بہرحال، مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اس نشست میں مجوزہ قانون سازی کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور و خوض کیا گیا۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ عبدالغفور حیدری، کامران مرتضیٰ، اسلم غوری، اسعد محمود اور اسجد محمود بھی موجود تھے۔ سب کے چہروں پر ایک خاموش سنجیدگی تھی، جیسے بہت کچھ کہنا باقی ہو مگر وقت کم ہو۔
پاکستان کی سیاست میں جب بھی کوئی غیر ملکی سفارتکار مولانا کے گھر جاتا ہے تو قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں، مگر اس بار بات کچھ زیادہ گہری لگ رہی تھی— یا شاید صرف ایک عام ملاقات تھی۔ مسریوم کی اطلاعات کے مطابق، عالمی امور پر یہ تبادلہ خیال کافی اہم تھا، خاص طور پر اس وقت جب خطے کے حالات ایک نئے موڑ پر کھڑے ہیں۔
مزید برآں، کیا یہ ملاقات صرف ایران تک محدود تھی یا کچھ اور بھی تھا جو ڈسکس ہوا؟ یہ کہنا ذرا مشکل ہے، مگر حالیہ دنوں میں جس طرح عالمی سطح پر ہلچل ہے، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ سیاست کے ایوانوں میں کچھ تو پک رہا ہے۔ شاید ہم جلد ہی کچھ نیا سنیں۔