آئینی عدالت: باپ سے پہلے وفات پانے والی بیٹی کے بچوں کو وراثت کا حق مل گیا

اسلام آباد کی فضا میں آج کچھ عجیب سا سکون تھا، شاید عدالت کے کوریڈورز میں ہونے والی اس ہلچل کی وجہ سے جو ایک پرانے زخم پر مرہم بن کر آئی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے ایک نہایت اہم مقدمے میں فیصلہ دیا ہے کہ اگر کوئی بیٹی اپنے والد سے پہلے وفات پا جائے، تو اس کی اولاد کو وراثت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ معاملہ سردار بیگم کے خاندان کا ہے، جو 1968 سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے تھے۔ آپ سوچیں، کتنی دہائیاں گزر گئیں، بچے بڑے ہو گئے، شاید کچھ گزر بھی گئے ہوں گے— اور آج جا کر یہ انصاف کا دروازہ کھلا ہے۔
عدالت کا یہ حکم اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں تکنیکی بنیادوں کو انسانی حقوق پر ترجیح نہیں دی گئی۔ سردار بیگم، جو عبداللہ خان اور فاطمہ بی بی کی صاحبزادی تھیں، ان کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کو تقسیمِ وراثت میں شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔ مسریوم (Misryoum) کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ 1989 میں جب وراثت کی تقسیم کا عمل مکمل ہوا، تب بھی ان بچوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ بس، انہیں اس لیے الگ کر دیا گیا کہ ان کی والدہ زندہ نہیں تھیں۔
چیف جسٹس آئینی عدالت کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس کیس کو سنا اور اب تفصیلی حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے نہ صرف سردار بیگم کے ورثا کو مقدمے میں فریق بننے کی اجازت دی بلکہ وراثت کی دوبارہ تقسیم کا حکم بھی دے دیا۔ ویسے یہ کتنی عجیب بات ہے کہ انصاف ملنے میں اتنی دیر لگ جاتی ہے کہ نسلیں بدل جاتی ہیں۔ اچھا، ایک اور بات جو اہم ہے، وہ یہ کہ اس کیس کی اگلی سماعت اب 13 مئی کو ہوگی، جہاں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مزید معاونت طلب کی گئی ہے۔ شاید تب تک کچھ اور پہلو بھی واضح ہو جائیں۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل کے لیے ایک بڑی نظیر بنے گا۔ اس سے وہ تمام خاندان جو ایسی صورتحال کا شکار ہیں، انہیں ایک نئی امید ملی ہے۔ شفافیت اور انصاف کے تقاضے اب کچھ زیادہ واضح لگ رہے ہیں، یا شاید میں ایسا سوچ رہا ہوں۔ بہرحال، خواتین اور ان کے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ مسریوم کے مطابق، اس فیصلے سے وراثتی نظام میں آنے والی پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی، مگر کیا واقعی سب کچھ بدل جائے گا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
کبھی کبھی لگتا ہے کہ قانون صرف کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے، لیکن جب ایسا فیصلہ آتا ہے تو یقین بڑھ جاتا ہے۔ سردار بیگم کے بچوں کے لیے یہ صرف وراثت نہیں، بلکہ ان کے بنیادی حق کی بحالی ہے۔