Pakistan News

چور دروازے سے اقتدار: راشد محمود سومرو کا نیا پیغام

راشد محمود سومرو نے اپنی تازہ پریس کانفرنس میں چور دروازے سے اقتدار کے نظریے پر تنقیدی بیان دیا، جس سے سیاسی منظرنامے میں نئی لہر اُٹھی۔

چور دروازے سے اقتدار کا نعرہ راشد محمود سومرو کے تازہ بیان کا مرکزی دھاگا بن گیا۔

کاندیاروں میں منعقد پریس کانفرنس میں نمائندہ جسارت، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکرٹری راشد محمود سومرو نے واضح الفاظ میں کہا کہ “پہلے جن افراد کو کوئی نہیں جانتا تھا، وہ آج اربوں روپے کے مالک بن چکے ہیں”۔ اس کے ساتھ انہوں نے پشتون زمینداروں کے خلاف بکری چوری کے مقدمات کی کڑی مذمت کی اور کہا کہ کرپٹ حکمرانوں کو عوام کے پیچھے چھوڑ دینا چاہیے۔ اس بیان کے دوران ہال کے باہر بارش کی ٹپک ٹپک کی آواز سنائی دے رہی تھی، جس نے موقعے کو ایک غیر رسمی مگر گہری فضا دی۔

سومرو کا یہ تبصرہ صرف سیاسی تنقید تک محدود نہیں رہا؛ انہوں نے عالمی امن کے حوالے سے سکھر میں 19 سے 21 مارچ 2027 تک ہونے والے تین روزہ عالمی امن اجتماع کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان، چیچنیا، فلسطین، کشمیر اور ایران کی امن کی کوششیں پیش کی جائیں گی۔ اس بیان سے واضح ہوا کہ وہ صرف مقامی سیاست ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی امن کی جدوجہد میں بھی اپنی آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ سندھ کی سیاست میں تاریخی طور پر طاقت کے دروازے پر چوروں کا اثر کم نہیں رہا، جہاں کئی بار غیر منتخب طاقت کے افراد نے خود کو عوامی نمائندہ کے طور پر پیش کیا۔

سیاسی پس منظر

سندھ کی سیاسی تاریخ میں اقتدار کے دروازے پر غیر رسمی طاقت کے کھیل اکثر دیکھنے کو ملے ہیں۔ 1990 کی دہائی کے اختتام میں جب متعدد زمین داروں نے سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر مقامی انتخابات میں اپنی برتری قائم کی، تو عوامی نمائندوں کے درمیان بے ایمانی کے الزامات عام ہو گئے۔ اس دور میں کئی بار بکری اور گائے کی چوری کے مقدمات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، جس سے عوام میں غصہ بڑھا۔ راشد محمود سومرو کا تازہ بیان اسی تاریخی سلسلے کی ایک نئی قسط ہے، جہاں وہ اس مروجہ روایت کو توڑنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔

عوامی ردعمل

شہر کے مختلف گوشوں سے آنے والے شہریوں نے اس بیان پر مختلف ردعمل دکھائے۔ ایک چھوٹے کاروباری مالک نے کہا کہ “اگر واقعی چوروں کو اقتدار سے باہر رکھا جائے تو چھوٹے کاروباروں کو بھی ترقی کا موقع ملے گا”۔ دوسری طرف ایک طالب علم نے اظہار تشویش کیا کہ “سیاست میں صرف الفاظ کافی نہیں، عملی قدم ضروری ہیں”۔ یہ مختلف آراء اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عوام اس تبدیلی کے لئے امید اور احتیاط دونوں محسوس کر رہے ہیں۔

مستقبل کا منظر

اگر راشد محمود سومرو کے ساتھ دیگر سیاسی قائدین بھی اس نظریے پر عمل کرنے لگیں تو سندھ کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ پارٹیاں اپنی امیدوار فہرست میں زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد افراد کو شامل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی تنظیموں کا کردار بھی بڑھ سکتا ہے، کیونکہ وہ اقتدار کے دروازے پر چوری کی روک تھام کے لئے نگرانی کے نئے طریقے اپنائیں گے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ملک کی مجموعی سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے امکانات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔