عباس عراقچی کی آرمی چیف سے ملاقات: خطے کی کشیدگی اور بالواسطہ مذاکرات زیر غور

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے دورے میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ علاقائی سکیورٹی، دوطرفہ تعاون اور ایران-امریکا کے بالواسطہ پیغامات پر غور ہوا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پاکستان میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات نے ایک بار پھر خطے کی سکیورٹی بحث کو تیز کر دیا۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی کے مشیر جنرل عاصم ملک بھی شریک تھے۔ مذاکرات کے دوران توجہ بنیادی طور پر خطے کی کشیدہ صورتحال، علاقائی سکیورٹی اور دوطرفہ تعاون کے راستوں پر مرکوز رہی۔ اسی تناظر میں ایران امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے امکان اور اس کے طریقۂ کار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے مطابق دفتر خارجہ کی سطح پر بتایا گیا کہ گفتگو میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ کو اہم ترجیح قرار دیا گیا۔ یہ بات صرف سفارتی رسمی کارروائی نہیں سمجھی جا رہی بلکہ اس خطے میں جاری تناؤ کے درمیان عملی رابطوں کی تلاش کے طور پر دیکھی جاتی ہے—جہاں ہر قدم پڑوسی ممالک کے مفادات سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
اسی دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے مصری ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ بھی دکھاتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صرف دو طرفہ بات چیت نہیں، بلکہ متعدد چینلز کے ذریعے دباؤ کم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس طرح کے روابط اکثر اس لیے کیے جاتے ہیں کہ حساس معاملات میں براہِ راست لائحۂ عمل سے پہلے اتفاقِ رائے اور فہم پیدا ہو۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کے اس دورے میں پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان اہم پیغامات کے تبادلے اور کشیدگی کم کرنے کی حکمت عملی بھی زیر غور رہی۔ ان دنوں سفارت کاری کے انداز میں تبدیلی نمایاں ہے: جب تعلقات براہِ راست ہوں تو توسیع مشکل ہو جاتی ہے، تو کردار ادا کرنے والے ثالث اور رابطہ کار ممالک اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان کا بطور رابطہ کار سامنے آنا سیاسی اور سکیورٹی دونوں سطحوں پر بیک وقت اثرات رکھتا ہے۔
سخت سکیورٹی، حساس ملاقاتوں کی ساکھ
سفر اور ملاقات کی حساسیت کے باعث دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ ایرانی وزیر خارجہ کی آمد پر ان کا استقبال اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا، جس سے ملاقات کی اہمیت اور اس کے سیاسی پیغام واضح ہوتے ہیں۔ ایسی تقریبات میں سکیورٹی صرف معمول کی کارروائی نہیں رہتی بلکہ یہ اس بات کا اشارہ ہوتی ہے کہ حکومت اس نشست کو کسی متوقع پیش رفت کے لیے ایک اہم مرحلہ سمجھ رہی ہے۔
کشیدگی کم کرنے کی سفارت کاری: کیوں اہم ہے؟
ایسے مذاکرات میں اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ بات چیت کس سمت جا رہی ہے اور اس کے بعد کیا بدل سکتا ہے۔ علاقائی سکیورٹی اور دوطرفہ تعاون پر زور اس لیے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جب خطے میں عدم استحکام بڑھ جائے تو انسانی اور اقتصادی دونوں سطحوں پر اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ مساجد، بازاروں، سرکاری دفاتر اور روزمرہ ٹریفک تک—ہر جگہ سکیورٹی کی فضا براہِ راست اثر ڈالتی ہے، اور حکومتوں کے لیے سب سے بڑی ترجیح عمل میں استحکام برقرار رکھنا بنتی ہے۔
بالواسطہ مذاکرات کی بات بھی اسی پس منظر میں آتی ہے۔ براہِ راست رابطوں کے مقابلے میں بالواسطہ راستہ اکثر اس لیے اپنایا جاتا ہے کہ فریقین کے موقف پہلے سے واضح ہوں مگر مکمل اتفاق ابھی ممکن نہ ہو۔ اس حکمتِ عملی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ “تیزی” کے بجائے “کنٹرولڈ” پیش رفت ہو سکتی ہے—اور غلط فہمی یا تیز ردِعمل کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان کا کردار اور اگلا امکان
جب ایک ملک ثالث یا رابطہ کار بن کر پیغام رسانی کرے تو اس کا دائرہ اثر بھی بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان کے اندرونی سکیورٹی انتظامات، سفارتی ورک فلو اور علاقائی معاملات میں پوزیشن—سب ایک ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام اختلافات فوراً ختم ہو جائیں گے، لیکن یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی سمت “کشیدگی کم کرنے” پر مرکوز ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ کیا ان پیغامات اور گفتگو سے عملی سطح پر کوئی مشترکہ لائحۂ عمل سامنے آتا ہے، یا صرف رابطوں کی بحالی تک بات محدود رہتی ہے۔ تاہم اس ملاقات سے ایک واضح سگنل ملا ہے کہ خطے میں تناؤ کی فضا کے باوجود سفارت کاری کے راستے بند نہیں کیے گئے—اور جو ملکیں براہِ راست تعلقات میں کھچاؤ محسوس کرتی ہیں وہ ایسے پلیٹ فارم استعمال کر کے جگہ پیدا کرتی ہیں۔ Misryoum اس پیش رفت کو اسی تناظر میں فالو کرے گا۔