Pakistan News

حب کی بدترین لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں دھکیل دیا

حب میں بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ نے شدید گرمی کے ساتھ عوام کو بے سُرا رکھا۔ بجلی کی مسلسل بندش صحت، معیشت اور روزمرہ کے معمولات پر گہرا اثر ڈال رہی ہے، جبکہ حکام سے فوری ریلیف کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔

حب کی بدترین لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو بے چین کر دیا ہے۔

شدید گرمی کے ساتھ بجلی کی متواتر بندش نے عوام کی زندگی کو تقریباً روک دیا۔ بازار خالی، گھر کے اندر مچھر کی گُھریلو تعداد بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، اور ہر گھر میں ایئر کنڈیشنر کے بغیر گرمی سے جھلسنے کا خطرہ رہتا ہے۔

تحلیل کاروں کا خیال ہے کہ یہ بحران صرف فنی خرابی نہیں بلکہ پلاننگ کی کمزوری اور توانائی کے غیر مؤثر تقسیم کا نتیجہ ہے۔ کے الیکٹرک کی جانب سے جاری غیر متوازن لوڈ شیڈنگ نے نہ صرف گھریلو سہولتیں مفلوج کی ہیں بلکہ چھوٹے کاروباروں کی آمدنی میں بھی شدید کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مچھر کے بڑھتے ہوئے ہجوم نے ڈینگی اور ملیریا جیسے بیماریوں کے خطرے کو دوگنا کر دیا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور گرمی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے سنگین صحت کا مسئلہ بن گیا ہے۔

صحت پر بڑھتا خطرہ

مچھر کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں کی رپورٹیں اس ہفتے میں پہلے سے 30 ٪ زیادہ ہیں۔ مقامی کلینکس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ انفرادی طور پر علاج کے اخراجات کو بڑھا رہا ہے، جبکہ اکثر خاندانوں کے پاس بجلی نہ ہونے کے باعث فریز کی گئی ادویات بھی خراب ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال نے صحت کے بنیادی ڈھانچے پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔

مستقبل کے لیے اقدامات

ماہرین توانائی کے مشیروں کا مشورہ ہے کہ فوری طور پر متبادل توانائی کے منصوبے، جیسے سولا ر پینل اور ہائیڈرو پاور، کو عمل میں لایا جائے۔ طویل مدتی حل کے طور پر، بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے جدید میٹرنگ سسٹم اور ڈیمانڈ‑ریسپانس پروگرامز کو لاگو کرنا ضروری ہے۔ اگر حکام ان تجاویز پر عمل نہیں کرتے تو لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے اور عوامی ردعمل شدید ہو سکتا ہے۔

قریبی رہائشیوں کے مطابق، ہر روز صبح کے وقت سے شام تک بجلی نہیں آتی، جس سے گھریلو خواتین کو کھانا پکانے میں دشواری ہوتی ہے اور طلباء کو آن لائن تعلیم سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کی مشکلات نے خاندانوں کی روزمرہ کی روٹین کو تبدیل کر کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

اقتصادی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو، چھوٹے دکاندار اور خدماتی شعبے کے کارکنوں نے اپنی آمدنی کا 40 ٪ تک حصہ کھو دیا ہے۔ جب توانائی کی فراہمی مستحکم نہیں ہوتی تو سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے اور نئی کاروباری سرگرمیاں سست ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں، حب کے مجموعی معاشی نمو پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

حکومت سے طلب ہے کہ وہ فوری طور پر غیر ضروری بوجھ کم کر کے اہم علاقوں کو ترجیحی سپلائی فراہم کرے، اور عوام کو واضح وقت‑سیماں کے ساتھ معلومات فراہم کرے تاکہ وہ اپنی روزمرہ کی منصوبہ بندی بہتر طور پر کر سکیں۔