امریکی محکمہ دفاع کا مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں سے بڑا معاہدہ

امریکی محکمہ دفاع نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کیے ہیں، جس کا مقصد اے آئی ٹولز کو خفیہ نیٹ ورکس کا حصہ بنانا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد جدید ترین اے آئی صلاحیتوں کو امریکی فوج کے خفیہ دفاعی نیٹ ورکس میں ضم کرنا ہے، تاکہ عسکری کارروائیوں کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
اس اقدام کے تحت اسپیس ایکس، اوپن اے آئی، گوگل، این ویڈیا، ریفلیکشن، مائیکروسافٹ اور ایمیزون ویب سروسز کو پینٹاگون کے اہم نیٹ ورکس تک رسائی دی گئی ہے۔ یہ کمپنیاں اب انتہائی حساس سطح کے دفاعی نظام، بشمول امپیکٹ لیول 6 اور 7 کے خفیہ نیٹ ورکس کے لیے اپنی خدمات فراہم کریں گی۔
محکمہ دفاع کے مطابق، اس شراکت داری کے ذریعے فوجی اہلکاروں کو جدید اے آئی ٹولز تک وسیع رسائی ملے گی، جنہیں منصوبہ بندی، لاجسٹکس اور اہداف کے درست تعین جیسے پیچیدہ امور کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ عسکری ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت اب محض ایک تجربہ نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن چکی ہے جو مستقبل کے جنگی منظرناموں میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اے آئی نیٹ ورک کو مزید وسعت دے رہے ہیں تاکہ فوجی کارروائیوں کی رفتار اور درستگی کو بڑھایا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست سے اینتھروپک کو خارج رکھا گیا ہے، جس کے ساتھ سیکیورٹی خدشات اور قواعد و ضوابط پر تنازع جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق، محکمہ دفاع نے رواں سال کے اوائل میں اینتھروپک کی ٹیکنالوجی کو سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی۔ اس پابندی کا اطلاق پینٹاگون کے تمام کنٹریکٹرز پر بھی کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے سیکیورٹی رسک سے بچا جا سکے۔
پینٹاگون کے مرکزی اے آئی پلیٹ فارم ‘GenAI.mil’ کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران تقریباً 13 لاکھ سے زائد دفاعی اہلکار اسے اپنے کاموں میں استعمال کر چکے ہیں۔
یہ اعداد و شمار امریکی عسکری نظام میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے انحصار اور اے آئی کے وسیع پیمانے پر نفاذ کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
مستقبل قریب میں یہ معاہدے نہ صرف عسکری صلاحیتوں کو تقویت دیں گے بلکہ دفاعی شعبے میں نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثر و رسوخ کو بھی ایک نئی جہت عطا کریں گے۔