pakistan news

اسرائیل کا متحدہ عرب امارات کو جدید دفاعی نظام کی فراہمی

اسرائیل نے ایران کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر متحدہ عرب امارات کو جدید فضائی دفاعی ٹیکنالوجی اور سرویلنس سسٹم فراہم کر دیے ہیں۔

اسرائیل نے خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر متحدہ عرب امارات کو انتہائی جدید دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خاص طور پر ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی حصار کو مضبوط بنانا ہے۔

Misryoum کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل نے امارات کو ‘اسپیکٹرو’ نامی ایک جدید سرویلنس سسٹم فراہم کیا ہے۔ یہ نظام 20 کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے ڈرونز کی نہ صرف نشاندہی کر سکتا ہے بلکہ انہیں ٹریک کرنے میں بھی بے حد معاون ثابت ہوتا ہے۔

یہ پیش رفت خطے میں بدلتی ہوئی عسکری ترجیحات کو ظاہر کرتی ہے جہاں ٹیکنالوجی کا تبادلہ اب دفاعی تعلقات کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔

اس کے علاوہ، اسرائیل نے اپنے مشہور ‘آئرن بیم’ لیزر سسٹم کا ایک خصوصی ورژن بھی فراہم کیا ہے۔ یہ نظام قلیل فاصلے سے آنے والے راکٹوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا تجربہ حال ہی میں اسرائیل نے اپنی سرحدوں پر بھی کیا ہے۔

اس دفاعی تعاون کے سلسلے میں ‘آئرن ڈوم’ فضائی دفاعی نظام کی منتقلی بھی شامل ہے۔ اس سسٹم کو فعال رکھنے کے لیے درجنوں اسرائیلی تکنیکی ماہرین اور فوجی اہلکار بھی متحدہ عرب امارات میں تعینات کیے گئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری قربت واضح ہوتی ہے۔

مزید برآں، اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے مغربی ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کے حوالے سے خفیہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ اس معلومات کی فراہمی کا مقصد خطے میں موجود دفاعی ڈھانچے کو مزید فعال اور بروقت جواب دینے کے قابل بنانا ہے۔

مستقبل میں مزید دفاعی آلات اور اضافی اہلکاروں کی منتقلی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات میں آنے والی یہ تبدیلی خطے کے توازن کو تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے وقت میں خطے کے ممالک اپنے دفاع کے لیے ایک دوسرے پر انحصار بڑھانے پر مجبور ہیں۔