Pakistan News

مودی سرکار میں لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے، بھارت کی معاشی کمزوریاں مزید نمایاں

بھارت میں اس وقت عجیب بے چینی کا عالم ہے، سڑکوں پر جلتی گاڑیوں کا دھواں اور مزدوروں کے نعرے اب ایک معمول بن چکے ہیں۔ مسریوم کی حاصل کردہ معلومات کے مطابق، اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ نے مودی سرکار کی معاشی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ سیدھی بھارتی معیشت کی رگوں میں اتر رہی ہے۔

رپورٹ کے اعداد و شمار ہوش اڑا دینے والے ہیں۔ اگر یہی سب کچھ چلتا رہا تو بھارت میں تقریباً 25 لاکھ مزید لوگ غربت کی دلدل میں جا گریں گے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، ویسے بھی وہاں پہلے ہی کروڑوں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ تعداد 35 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے—یا شاید اس سے بھی زیادہ، کیونکہ معاشی اعداد و شمار اکثر حقیقت سے تھوڑے کم بتائے جاتے ہیں۔

اب ذرا اس کے زرعی اثرات پر غور کریں، خاص طور پر خریف کی فصل کا کیا بنے گا؟ اگر خلیجی خطے میں حالات مزید بگڑے تو خوراک کا بحران سر پر منڈلانے لگے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارت کا جو ‘خود انحصاری’ کا ڈھول پیٹا جاتا ہے، اس کی قلعی اب کھل رہی ہے۔ دفتری فائلوں میں تو سب اچھا ہے، لیکن عام آدمی کے کچن میں جا کر دیکھیں تو صورتحال کچھ اور ہی ہے۔

مزدور طبقہ تو پہلے ہی سڑکوں پر ہے، گاڑیاں جلائی جا رہی ہیں اور حالات بے قابو ہوتے لگتے ہیں۔ ماہرین تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ بھارتی لیبر مارکیٹ کا 90 فیصد حصہ خطرے کی زد میں ہے۔ اب یہ ملازمتیں بچیں گی یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔

مسریوم کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بروقت درست پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو یہ بحران سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ لیکن کیا حکومت کے پاس کوئی پلان ہے؟ شائد نہیں۔

دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، کیونکہ عالمی منڈی اور مقامی حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اس میں تو بڑے بڑے معاشی گرو بھی دنگ رہ گئے ہیں۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ زمینی حقائق کو تسلیم کیا جائے، مگر سیاست تو اپنی جگہ قائم ہے—اور غربت؟ وہ تو بس بڑھتی جا رہی ہے۔

Back to top button