تلہار میں آئس کے نشے کا بڑھتا ہوا رجحان اور سماجی تباہی

تلہار اور گردونواح میں آئس نشے کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معاشرتی اقدار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ افسوسناک واقعے کے بعد عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور منشیات کے خاتمے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
تلہار اور گردونواح میں منشیات خصوصاً ‘آئس’ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ایک سنگین معاشرتی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ حال ہی میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں نشے کے عادی ایک نوجوان نے محض رقم نہ ملنے پر اپنی ماں کی زندگی کا چراغ بجھا دیا۔
اس افسوسناک واقعے کی تفصیلات کے مطابق، بدین کے نواحی گاؤں میں وسیم ملاح نامی نوجوان نے کلہاڑی کے وار سے اپنی والدہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ابتدائی تحقیقات اور مقامی ذرائع کے مطابق ملزم مبینہ طور پر آئس نشے کا عادی تھا، جو انسانی اعصاب کو مفلوج کرنے اور جارحانہ رویے کو فروغ دینے میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی بربادی کا باعث بنا ہے، بلکہ اس نے ان تمام والدین کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا ہے جن کے بچے اس لعنت کی زد میں ہیں۔
معاشرتی زوال اور منشیات کا کھیل
تلہار اور ضلع بدین کے دیگر علاقوں میں منشیات کا یہ کاروبار جس تیزی سے پھیل رہا ہے، وہ انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مقامی شہریوں کا ماننا ہے کہ آئس جیسے مہلک نشے کی ترسیل ایک منظم نیٹ ورک کے تحت ہو رہی ہے، جسے بعض حلقوں کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے۔ جب تک اس نیٹ ورک کی جڑیں نہیں کاٹی جائیں گی، تب تک ایسے واقعات کا تسلسل برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
سماجی ماہرین کے مطابق، آئس (Ice) کا نشہ نوجوانوں کو بہت جلد اپنا غلام بنا لیتا ہے، جس کے بعد انسان اپنی عقل و شعور کھو بیٹھتا ہے۔ یہ صرف ایک نشہ نہیں بلکہ ایک ‘سائلنٹ کلر’ ہے جو خاندانوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ تلہار کے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ منشیات کے اڈوں کو مسمار کرنے کے ساتھ ساتھ ان عناصر کو بھی بے نقاب کیا جائے جو نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر دھکیل رہے ہیں۔
انصاف کی فراہمی اور مستقبل کا لائحہ عمل
مستقبل کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ناسور کو روکنے کے لیے صرف احتجاج تک محدود رہیں گے؟ اس مسئلے کا حل صرف پولیس کے چھاپوں میں نہیں، بلکہ ایک وسیع تر سماجی اور حکومتی حکمت عملی میں پنہاں ہے۔ نوجوانوں کی کونسلنگ، تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات اور منشیات بحالی مراکز کا قیام اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مثالی کارروائی کی جائے۔ اگر معاشرتی سطح پر اس کا تدارک نہ کیا گیا، تو آنے والے وقت میں خاندانوں کے اندر ہونے والے ایسے تشدد کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تلہار کے عوام اب ایس ایس پی بدین سے بلا تفریق کارروائی کی توقع رکھتے ہیں تاکہ اس علاقے کو منشیات سے پاک کیا جا سکے۔