pakistan news

اسرائیل کا متحدہ عرب امارات کو جدید دفاعی نظام کی فراہمی

مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر، اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو جدید فضائی دفاعی آلات فراہم کر دیے ہیں تاکہ علاقائی تحفظ کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے درمیان اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کر دیا ہے تاکہ خطے کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے۔

اس پیش رفت کے تحت اسرائیل نے امارات کو ‘اسپیکٹرو’ نامی ایک جدید سرویلنس سسٹم دیا ہے، جو 20 کلومیٹر کے فاصلے سے بھی ڈرونز کی آمد کو بھانپنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس دفاعی اشتراک کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان تکنیکی برتری برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی سے نہ صرف نگرانی بہتر ہوگی بلکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں جوابی کارروائی کا وقت بھی کم ہو سکے گا۔

اسپیکٹرو سسٹم کے علاوہ اسرائیل نے ‘آئرن بیم’ لیزر سسٹم کا ایک ورژن بھی فراہم کیا ہے۔ یہ نظام خاص طور پر چھوٹے اور کم فاصلے کے ڈرونز کو ہوا میں ہی تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کا عملی مظاہرہ حالیہ مہینوں میں کچھ دیگر محاذوں پر بھی دیکھا گیا ہے۔

مزید برآں، اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے اپنا مشہور ‘آئرن ڈوم’ فضائی دفاعی نظام بھی امارات منتقل کیا ہے۔ اس نظام کو فعال رکھنے کے لیے اسرائیلی فوجی اہلکار بھی امارات پہنچ چکے ہیں، جو مقامی فورسز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

اس دفاعی پیکج کا ایک اہم حصہ حساس انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی ہے، خاص طور پر ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع دینے کے حوالے سے۔ یہ خفیہ تعاون خطے کے دفاعی ڈھانچے کو ایک نیا رخ دینے کے مترادف ہے۔

مستقبل میں مزید دفاعی آلات اور ماہرین کی تعیناتی کا بھی امکان ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک ایک مربوط دفاعی نیٹ ورک بنانے کی جانب گامزن ہیں۔

یہ تعاون واضح کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اب اپنی سیکیورٹی کو مزید خود مختار اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے علاقائی شراکت داریوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔