pakistan news

آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول: ایران پیچھے نہیں ہٹے گا

ایرانی پارلیمان کے نائب اسپیکر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کا فطری اور جائز حق ہے، تہران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف سمندر تک محدود نہیں رہی، اب اس پر ایران کے مؤقف نے ایک بار پھر بحث کو تیز کر دیا ہے۔

ایرانی پارلیمان کے نائب اسپیکر علی نکزاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ایران کا فطری حق ہے اور تہران اپنے اس مؤقف پر پوری مضبوطی سے قائم رہے گا۔ ان کے مطابق یہ راستہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ کی طرح نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ ایران کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

نکزاد نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران اس اسٹریٹجک راستے پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی پسپائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اسے قومی مفادات کے تحفظ سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ملک ضرورت کے مطابق ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے راستوں پر اختیار کے دعوے محض سیاسی بیان نہیں رہتے، بلکہ خطے کی سیکیورٹی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے حساس بھی بن جاتے ہیں۔

میڈیا کے مطابق ایران کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا جب خطے میں کشیدگی پہلے سے موجود ہے اور امریکا و ایران کے درمیان صورتحال مزید پیچیدہ سمجھی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی اور سیکیورٹی امور بھی ایک بحثی زاویے سے دیکھے جا رہے ہیں۔

Meanwhile، اس طرح کی صورتِ حال کے اثرات صرف دو طرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہتے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی سے براہ راست جڑی سمجھی جاتی ہے اور کوئی رکاوٹ عالمی منڈی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے نتیجے میں سفارتی سطح پر دباؤ اور سیکیورٹی خدشات دونوں بڑھ سکتے ہیں، جس سے تجارت اور توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے کا خدشہ بیان کیا جاتا ہے۔

ایرانی رہنما کے مطابق اس راستے کی اسٹریٹجک حیثیت ایسی ہے کہ اس پر کنٹرول اور پابندیوں کے سوالات باقاعدہ قومی ترجیحات بن جاتے ہیں۔ اس تناظر میں ایران اپنے مؤقف کو “جائز حق” کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز پر اختیار کے دعوے جب شدت اختیار کرتے ہیں تو اثرات خطے سے نکل کر عالمی سطح تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، اس لیے کشیدگی کے انتظام اور سفارت کے راستے ہمیشہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔