ایرانی تیل عالمی مارکیٹ میں، پابندیاں ناکام

Misryoum کی رپورٹ کے مطابق ایرانی تیل عالمی مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہے، جس سے امریکہ کی پابندیوں کی مؤثریت پر سوال اٹھتے ہیں اور عالمی تیل کی قیمتوں پر اثرات متوقع ہیں۔
Misryoum کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایرانی تیل عالمی مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں ایرانی تیل کا داخلہ
پچھلے ہفتے سے ایرانی آئل ٹرک اور بحری جہاز مشرق وسطیٰ کے مختلف بندرگاہوں سے گزر کر یورپی اور ایشیائی خریداروں تک پہنچ رہے ہیں۔ سرحدی ریکارڈز کے مطابق یہ شپمنٹس تقریباً 1.2 ملین بیرل ہر ماہ کی سطح پر مارکیٹ میں شامل ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خرید و فروخت کے معاہدے کئی غیر ملکی بینکوں کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جنہوں نے امریکہ کی پابندیوں کے تحت لچک دکھائی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی تیل کی سپلائی کی توقعات کو بدل دیا ہے اور قیمتوں میں نرمی کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔
تحلیل کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی تیل کی یہ روانگی جاری رہی تو عالمی تیل کی قیمتیں اس سال کے وسط تک 5 سے 7 فیصد کم ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، امریکی ڈالر میں ادائیگی کی نئی حکمت عملیوں نے پابندیوں کے نفاذ کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایران کے حکومتی عہدیداران نے اس اقدام کو اپنی معیشت کی بحالی کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس، امریکی تجارتی وزارت نے ابھی تک کسی واضح ردعمل کا اعلان نہیں کیا، جس سے عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام کی شدت بڑھ رہی ہے۔
امریکی پابندیوں کی مؤثر کارکردگی
امریکہ نے 2018 کے بعد ایرانی تیل پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں، جس کا مقصد ایران کی آمدنی کو محدود کر کے اس کے نیوکلیئر پروگرام پر دباؤ ڈالنا تھا۔ تاہم، گزشتہ دو سالوں میں پابندیوں کے اثرات کمزور پڑنے کے متعدد اشارے سامنے آئے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی نظام کی پیچیدگی اور دیگر ممالک کی تعاون کی کمی نے امریکی حکمت عملی کو کمزور کر دیا۔ اس کے نتیجے میں، ایران نے نئی تجارتی راستے اور ادائیگی کے میکانزم تیار کیے ہیں، جن میں غیر روایتی کرنسیوں کا استعمال شامل ہے۔
ایران کے عوام بھی اس تبدیلی سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ نئی آمدنی کے باعث ملک کے اندر خوراک اور توانائی کے سبسڈی پروگراموں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عام لوگوں کی زندگی میں کچھ سہولتیں پیدا ہوئی ہیں۔ تاہم، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، کیونکہ کسی بھی وقت نئی پابندیوں کا نفاذ ممکن ہے۔
حالیہ تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کی پابندیاں اب پہلے کی طرح مؤثر نہیں رہیں۔ اس کی وجہ صرف تکنیکی رکاوٹیں نہیں بلکہ جیو-political توازن میں تبدیلی بھی ہے۔ جب ایران کی تیل کی سپلائی عالمی مارکیٹ میں شامل ہوتی ہے تو توانائی کی کثیرالملکی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے، اور امریکہ کے لیے اپنی پالیسیوں کو دوبارہ ترتیب دینا ضروری ہو جاتا ہے۔
ماضی میں روس اور دیگر ممالک نے بھی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی کوششیں کی تھیں؛ لیکن ایرانی حکمت عملی اس بار زیادہ منظم اور وسیع پیمانے پر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عالمی توانائی کے منظرنامے میں نئی طاقتیں ابھریں گی اور موجودہ بڑے کھلاڑیوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔
آئندہ میں اگر امریکی حکومت پابندیوں کو مزید سخت نہیں کرتی تو ایرانی تیل کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے عالمی مارکیٹ میں توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس تبدیلی سے نہ صرف توانائی کے نرخ بلکہ جیو-political تعلقات بھی نئے سرے سے تشکیل پائیں گے۔