Pakistan News

اسلام آباد میں مفت ڈینٹل کیمپس: صحت کے لیے نئی امید

ڈاکٹر مستبشرہ احمد کے زیر انتظام مفت ڈینٹل کیمپس اسلام آباد کے پسماندہ علاقوں میں دانتوں کی بنیادی سروسز فراہم کر رہے ہیں۔ یہ کیمپس شعور بڑھانے، علاج اور حفاظتی سامان کی فراہمی کے ذریعے عوامی صحت پر مثبت اثر ڈال رہے ہیں۔

ڈاکٹر مستبشرہ احمد نے اسلام آباد کے پسماندہ علاقوں میں مفت ڈینٹل کیمپس کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام سے ہزاروں افراد کو دانتوں کی بنیادی سروسز مل رہی ہیں۔

ڈاکٹر مستبشرہ احمد کے پاس گیارہ سال سے زیادہ کلینیکل تجربہ ہے اور گزشتہ پانچ سال سے وہ کم سہولتوں والے علاقوں میں ڈینٹل آگاہی کے لیے خصوصی کیمپس منعقد کر رہی ہیں۔ ان کی ٹیم میں ماہرین، دندان ساز اور رضاکار شامل ہیں جو ہر کیمپ پر معائنہ، علاج کے منصوبے اور ضروری حفظان صحت کے کٹس مہیا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موبائل ٹوتھ ایکسٹریکشن جیسے بنیادی عمل بھی انجام دیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں دانتوں کی صحت ابھی بھی ایک زیرِنظر مسئلہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، جنوبی ایشیا میں ہر چھ میں سے تین افراد کو کسی نہ کسی قسم کی ڈینٹل بیماری کا سامنا ہے۔ مگر مقامی سطح پر ڈینٹل کلینکس کی کمی اور عوامی شعور کی قلت نے اس بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس لئے مفت ڈینٹل کیمپس نہ صرف فوری علاج فراہم کرتے ہیں بلکہ طویل مدت میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں متعدد منصوبے جاری ہیں، مگر اکثر اِن منصوبوں میں دیہی اور پسماندہ علاقوں کی ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے غیر سرکاری اور نجی سیکٹر کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر مستبشرہ کے کیمپس اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کے ایک واضح نمونے ہیں، جہاں مقامی انتظامیہ، رضاکار تنظیمیں اور میڈیکل کالجز ایک ساتھ مل کر خدمات فراہم کرتے ہیں۔

کیمپس کے دوران ایک 45 سالہ مزدور نے بتایا کہ اس نے پہلی بار اپنی دانتوں کا معائنہ کروایا اور ایک خراب دانت نکالنے کا عمل مفت میں کرایا۔ اس نے کہا، “میں روزانہ مزدوری کرتا ہوں، مگر پہلے کبھی ڈاکٹر کے پاس نہیں جا سکا۔ آج میرا درد ختم ہوا اور میں ہلکی سانسیں لے رہا ہوں۔” اس طرح کے حقیقی قصے اس پروگرام کے انسانی پہلو کو واضح کرتے ہیں اور اس کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مفت ڈینٹل کیمپس عوامی صحت کے لیے ایک سرمایہ کاری ہیں۔ جب لوگ ابتدائی مراحل میں ہی بیماریوں کا پتہ لگاتے اور علاج کرواتے ہیں تو بعد میں بڑے سرجیکل اخراجات اور معاشی بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، صحت مند مسکراہٹیں بچوں کی خود اعتمادی بڑھاتی ہیں اور ان کی تعلیمی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔

مستقبل کے منصوبے

عوام کی ردعمل اور سماجی اثرات